ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اتراکھنڈ: انگریزی نصابی کتاب میں والدین کے لیے امی اور ابو لفظ کے استعمال پر تنازعہ، تحقیقات کا حکم

اتراکھنڈ: انگریزی نصابی کتاب میں والدین کے لیے امی اور ابو لفظ کے استعمال پر تنازعہ، تحقیقات کا حکم

Sat, 08 Apr 2023 11:09:34    S.O. News Service

دہرادون ،8/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) اتراکھنڈ میں دوسری جماعت کے ایک طالبعلم کے والدین نے دہرادون کے ضلع مجسٹریٹ میں شکایت درج کرائی ہےکہ ان کا بیٹا اسکول کی انگریزی نصابی کتاب میں ماں اور باپ کے لیے اردو لفظ پڑھ کر انھیں ‘امی اور ابو’ کہہ کر مخاطب کرتا ہے، جس کے بعد حکام نے جانچ کا حکم دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ،طالبعلم کے والد منیش متل نے کتاب میں ان الفاظ کے استعمال کو ’مذہبی عقیدے پر حملہ‘ قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنی شکایت میں متل نے کہا کہ انگریزی کتابوں میں امّی اور ابو کا استعمال نامناسب اور شرپسندی  ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی صرف  نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوا ہے اور فوری کارروائی سےاس طرح کے’مذہب مخالف عمل’ کو روکا جا سکتا ہے۔

اتراکھنڈ کے اسکول ایجوکیشن کے ڈائریکٹر بنشی دھر تیواری نے کہا، ہم نے انکوائری کا حکم دیا ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کی بات سنی جائے گی۔ نصابی کتاب کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی، انکوائری رپورٹ کے نتائج کی بنیاد پر مزید کارروائی کریں گے۔

متل نے کہا کہ جب انہوں نے اپنے بیٹے کو ابو اور امّی کہتے ہوئے سنا تووہ چونک گئے۔ انھوں نے کہا، ‘جب ہم نے ان سے وجہ پوچھی تو انھوں نے ہمیں اورینٹ بلیک سوان، حیدرآباد کی اپنی انگریزی کی درسی کتاب گل مہر 2 دکھائی۔ جس کے پہلے باب میں امّی اور ابو کا استعمال والدین کے لیےکیا گیا ہے…’

انہوں نے کہا کہ ہندی  کی کتابوں میں ماتا  اور پتاکا استعمال کیا جاتا ہےاور اردو کتابوں میں امّی اور ابو کا استعمال ہوتا ہے تو یہ درست ہے لیکن انگریزی کتاب میں اردو الفاظ بالکل درست نہیں۔ متل نے کہا کہ گل مہر 2 ملک بھر کےآئی سی ایس ای  بورڈ کے اسکولوں کے نصاب کا حصہ ہے۔ اس طرح کےگمراہ کن چلن کو روکنا ضروری ہے۔

ایک مقامی ہندو گروپ نے دہرادون کے چیف ایجوکیشن آفیسر پردیپ کمار کو بھی شکایت دی ہے جس میں اس کتاب کو نصاب سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کمار نے کہا کہ والدین نے مجسٹریٹ سے رابطہ کیا جنہوں  نے شکایت انہیں بھی بھیج دی۔ انہوں نے کہا، ‘میں نے آئی سی ایس ای  سے منسلک اسکول کے پرنسپل اور ماہرین تعلیم سے رائے مانگی ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں آئی سی ایس ای  کو بھی لکھوں گا۔ ہمیں ہندو واہنی کی طرف سے بھی کتاب کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے اس کتاب کو نصاب سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔


Share: